1 ستمبر، 2026، 12:16 PM

طاقت کا استعمال علاقائی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، صدر پزشکیان

طاقت کا استعمال علاقائی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، صدر پزشکیان

ایرانی صدر نے کہا کہ پائیدار علاقائی سلامتی باہمی اعتماد، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت اور مشترکہ تعاون سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور یکطرفہ پالیسیوں کے مقابلے میں باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے 26ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش اہم سلامتی اور اقتصادی چیلنجز پر روشنی ڈالی اور علاقائی استحکام کے استحکام اور مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لیے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باہمی اعتماد سازی، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت اور حکومتوں کے درمیان تعاون پائیدار سلامتی کے حصول کے لیے بنیادی تقاضے ہیں۔

ایرانی صدر نے دہشت گردی، پرتشدد انتہاپسندی، منشیات کی اسمگلنگ، سرحد پار منظم جرائم اور سائبر جرائم کو خطے کو درپیش اہم خطرات قرار دیا اور کہا کہ جغرافیائی سیاسی مسابقت میں شدت، یکطرفہ پالیسیاں اور طاقت و فوجی قوت کا استعمال بھی خطے کے ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے باعث تشویش ہیں۔

انہوں نے مغربی ایشیا کی حالیہ صورتحال اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان اقدامات کو اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور جنگ کے بعد کی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے مفاہمتِ اسلام آباد میں درج ذمہ داریوں کے حوالے سے ایران کے مؤقف پر بھی زور دیا۔

صدر پزشکیان نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں سلامتی اور ترقی کو باہم مربوط اور ناقابلِ تفکیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کو سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی معاملات پر بھی بیک وقت توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ، کسٹمز کے معاملات میں سہولت کاری، ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی، بندرگاہوں اور لاجسٹک مراکز کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے، ٹرانزٹ کی استعداد بڑھانے اور سپلائی چینز کی لچک مضبوط بنانے کو اقتصادی تعاون کے اہم محور قرار دیا۔

ایرانی صدر نے اقتصادی تعاون کے شعبے میں تین تجاویز بھی پیش کیں، جن میں مالی اور بینکاری تعاون کو گہرا کرنا اور ’’شنگھائی تعاون تنظیم بینک‘‘ کا قیام، برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے انشورنس یونین کا قیام اور ’’شنگھائی تعاون تنظیم انرجی کنسورشیم‘‘ کی تشکیل شامل ہیں۔

سلامتی کے شعبے میں ڈاکٹر پزشکیان نے ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ایک اسٹریٹجک سیکیورٹی اسٹڈیز سینٹر کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔

انہوں نے بات چیت اور مؤثر تعاون کے طریقۂ کار کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی سے متعلق عمل میں تعمیری اور فعال کردار ادا کرنے اور تنظیم کے اتحاد، کارکردگی اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی تجاویز کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔

News ID 1941043

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha